:
Breaking News

ہندوستان میں آتشزدگی کے واقعات جان لیوا کیوں ثابت ہوتے ہیں؟ سرکاری اعداد و شمار نے چونکا دیا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

کے واقعات میں کمی ضرور آئی ہے لیکن اب بھی ہر روز اوسطاً 16 افراد جان گنوا رہے ہیں۔ این سی آر بی اور دیگر رپورٹس نے آتشزدگی سے ہونے والی اموات کی کئی وجوہات سامنے رکھی ہیں۔

ملک میں آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک بار پھر قومی سطح پر تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دہلی کے ایک ہوٹل اور بہار کے مظفرپور شہر کے ایک نجی اسپتال میں پیش آنے والے المناک حادثات نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر ہندوستان میں آگ لگنے کے واقعات اتنے جان لیوا کیوں ثابت ہوتے ہیں۔ چند دنوں کے اندر پیش آنے والے ان دو حادثات میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، جس کے بعد فائر سیفٹی، سرکاری نگرانی اور عمارتوں میں حفاظتی انتظامات پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

دہلی میں ایک ہوٹل میں لگی آگ نے کئی خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا۔ اس حادثے میں متعدد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ اس کے فوراً بعد مظفرپور کے ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں مریضوں سمیت کئی افراد کی موت واقع ہو گئی۔ دونوں حادثات نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ ملک میں فائر سیفٹی کے قوانین پر عمل درآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو صورت حال مزید فکر انگیز دکھائی دیتی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی تازہ ترین دستیاب رپورٹ کے مطابق اگرچہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں آگ لگنے کے واقعات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اموات کی تعداد اب بھی تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر روز اوسطاً کئی افراد آتشزدگی کے مختلف حادثات میں جان گنوا رہے ہیں۔ گھروں، رہائشی عمارتوں، تجارتی مراکز اور اسپتالوں میں پیش آنے والے واقعات مجموعی اموات کا بڑا حصہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف آگ لگنا ہی اصل مسئلہ نہیں بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے میں ناکامی زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے۔ کئی عمارتوں میں ایمرجنسی راستے یا تو موجود نہیں ہوتے یا پھر استعمال کے قابل نہیں ہوتے۔ اکثر جگہوں پر آگ بجھانے کے آلات نصب تو ہوتے ہیں لیکن وقت پر ان کی جانچ نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ضرورت کے وقت وہ کام نہیں کرتے۔

فائر سیفٹی سے وابستہ ماہرین کے مطابق ہندوستان میں آتشزدگی کے زیادہ تر واقعات کے پیچھے لاپروائی ایک مشترکہ عنصر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ عمارتوں کی تعمیر کے دوران حفاظتی ضابطوں کو نظر انداز کرنا، غیر قانونی تعمیرات، مقررہ گنجائش سے زیادہ افراد کو جگہ دینا اور فائر این او سی کے بغیر ادارے چلانا ایسے عوامل ہیں جو حادثات کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ کئی بار متعلقہ اداروں کی نگرانی میں بھی خامیاں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے خلاف ورزیوں کے باوجود کارروائی نہیں ہو پاتی۔

شہری منصوبہ بندی سے متعلق ماہرین کا ماننا ہے کہ تیزی سے بڑھتے ہوئے شہروں میں فائر سیفٹی انفراسٹرکچر مطلوبہ رفتار سے ترقی نہیں کر سکا۔ کئی علاقوں میں فائر اسٹیشنوں کی تعداد ضرورت سے کم ہے۔ ٹریفک جام، تنگ سڑکیں اور بے ہنگم تعمیرات فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی بروقت رسائی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ نتیجتاً ابتدائی چند منٹوں میں قابو پائی جا سکنے والی آگ سنگین حادثے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ عوامی بیداری کی کمی ہے۔ بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ آگ لگنے کی صورت میں فوری طور پر کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسکولوں، اسپتالوں، ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں میں فائر ڈرل کا انعقاد یا تو نہیں ہوتا یا پھر صرف رسمی کارروائی تک محدود رہتا ہے۔ ایسے حالات میں ہنگامی صورت حال پیدا ہونے پر افراتفری بڑھ جاتی ہے اور جانی نقصان کا خدشہ زیادہ ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات خاص طور پر خطرناک ثابت ہوتے ہیں کیونکہ وہاں موجود مریض پہلے ہی کمزور حالت میں ہوتے ہیں۔ آئی سی یو، آکسیجن سپورٹ سسٹم اور طبی آلات آگ لگنے کی صورت میں اضافی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے معیار دیگر عمارتوں کے مقابلے میں زیادہ سخت ہونے چاہئیں، لیکن اکثر جگہوں پر ان اصولوں پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو پاتا۔

دوسری جانب ہوٹلوں اور تجارتی عمارتوں میں بھی گنجائش سے زیادہ کمروں کی تعمیر، غیر مجاز توسیع اور حفاظتی معیارات کی خلاف ورزیاں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔ حادثے کے بعد کارروائی ضرور ہوتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل ضرورت حادثے سے پہلے مؤثر نگرانی اور احتساب کی ہے۔

آفات سے نمٹنے کے شعبے کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فائر سیفٹی کو صرف ایک قانونی تقاضہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے۔ عمارتوں کی باقاعدہ جانچ، حفاظتی آلات کی وقت پر دیکھ بھال، عملے کی تربیت اور عوامی بیداری مہمات ایسے اقدامات ہیں جو مستقبل میں بڑے حادثات کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ملک میں آتشزدگی کے واقعات اگرچہ تعداد کے اعتبار سے کچھ کم ہوئے ہیں، لیکن ان سے ہونے والی اموات اب بھی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ دہلی اور مظفرپور جیسے حالیہ واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قوانین کا سخت نفاذ، بروقت نگرانی اور اجتماعی ذمہ داری ہی اس چیلنج سے نمٹنے کا مؤثر راستہ ہے۔

مختصر اداریہ:

ہر بڑے آتشزدگی حادثے کے بعد تحقیقات ہوتی ہیں، رپورٹس بنتی ہیں اور سخت کارروائی کے اعلانات بھی کیے جاتے ہیں، لیکن چند ماہ بعد حالات دوبارہ وہیں پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کے بعد ایک المناک حادثات سامنے آتے رہتے ہیں۔

فائر سیفٹی کو محض کاغذی ضابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی سطح پر نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب تک قوانین پر سختی سے عمل نہیں ہوگا اور ذمہ دار افراد کا احتساب نہیں ہوگا، اس طرح کے حادثات مکمل طور پر رکنا مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

• کال فارورڈنگ کیسے چیک اور بند کریں – alamkikhabar.com

• شدید گرمی میں گھموریوں سے بچاؤ کے آسان طریقے – alamkikhabar.com

• شیئر بازار میں اتار چڑھاؤ کے درمیان سرمایہ کاروں کی تشویش – alamkikhabar.com

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *